روس نے امریکا کو بین الاقوامی ڈکیت کہہ دیا

0 247

روس کے وزارت دفاع نے امریکا کی جانب سے شام میں تیل کی تنصیبات پر مزید نفری تعینات کرنے کو بین الاقوامی ڈکیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا شام میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے نام پر شام کی آئیل فیلڈز پر قبضے اور انھیں اپنے کنٹرول میں لانا چاہتا ہے۔

ماسکو: روس نے شام میں تیل کے تحفظ کے بہانے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو عالمی ڈکیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تیل کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے وزارت دفاع نے امریکا کی جانب سے شام میں تیل کی تنصیبات پر مزید نفری تعینات کرنے کو بین الاقوامی ڈکیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا شام میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے نام پر شام کی آئیل فیلڈز پر قبضے اور انھیں اپنے کنٹرول میں لانا چاہتا ہے۔

بیان میں ان تنصیبات کے داعش کے قبضے میں ہونے کے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ شام میں ہائیڈرو کاربن کے تمام ذخائر داعش کے قبضے میں نہیں اور نہ ہی یہ داعش سے برسرپیکار مقامی جنگجو دستوں کے قبضے میں ہے بلکہ یہ تنصیبات کلی طور پر شامی حکومت کی ملکیت ہیں۔

روس کے جانب سے یہ بیان امریکا کے شام میں تیل کے کنوؤں کے تحفظ کے لیے اپنے فوجی تعینات کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ تیل کے ان کنوؤں میں سے بعض پر امریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کا قبضہ ہے جب کہ اکثریت پر شامی حکومت کی ملکیت ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے شام کے صوبہ دیرالزور میں آئیل فیلڈز کے تحفظ کے لیے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا علان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیل یہ وسائل داعش یا دوسرے جنگجوؤں کے ہاتھ لگ جانے کے خدشہ ہے۔

تبصرے
Loading...